کریم[1]
معنی
١ - سخی، فیاض۔ "اور اگر مانگ سکتا ہے تو کریموں ہی سے۔" ( ١٩٦٥ء، مقام غالب، ١٠١ ) ١ - کرم کرنے والا، بخشنے والا، خدائے تعالٰی کا ایک صفاتی نام بزرگ و برتر۔ تو سلام و خالق و متعالی و عدل و کریم تو عزیز و باری و غفار و فتاح و علیم ( ١٩٨٤ء، الحمد، ٨٤ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم اور صفت استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو "دیوانِ حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - سخی، فیاض۔ "اور اگر مانگ سکتا ہے تو کریموں ہی سے۔" ( ١٩٦٥ء، مقام غالب، ١٠١ )